اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق پاراچنار میں کچھ عرصہ ظاہری امن و امان کے بعد آج اس امن کا جنازہ اس وقت نکل گیا جب کرمی بازار کے پرہجوم مقام پر فاروقیہ ہوٹل کے قریب ایک بم کا دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں اب تک 26 بے گناہ افراد شہید ہوگئے ہیں جبکہ 40 سے زائد زخمی ہیں اور شہیدوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک خودکش دھماکا تھا جبکہ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکا تھا جو قریبی ہوٹل میں موجود دہشت گردوں نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کرایا۔ دھماکے کے بعد شہر میں افراتفری پھیل گئی اور لاشوں اور زخمیوں کو ایجنسی ہیڈکوارٹرز اسپتال اور مرکزی مسجد میں منتقل کیا گیا جبکہ عوام نے حکومت اور اطراف میں مقیم دہشت گردوں کے خلاف احتجاج کیا جس پر حکومت کے سفاک اہلکاروں نے فائرنگ کردی اور فائرنگ کے نتیجے میں اب تک پانچ افراد کی شہادت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ملا فضل سعید نے ذمہ داری قبول کرلیادھر دہشت گردوں کے مقامی سرغنے ملا فضل سعید حقانی نے نامعلوم مقام سے پاکستانی ذرائع کو ٹیلی فونک رابطہ کرکے اس غیر انسانی اور غیر اسلامی کاروائی کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ یاد رہے کہ دہشت گردوں نے یہ حملہ مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد انجام دیا۔
طالبان دہشت گردوں کے مقامی سرغنے نے کہا کہ علاقے کے شیعہ طالبان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اسی بنا پر ان سے انتقام لیا گیا ہے۔
اگر حکومت کو امن عزیز ہوتا تو فضل سعید نے حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ فضل سعید کا ٹھکانہ سرکاری اداروں کی آنکھوں سے اوجھل ہے؛ لہذا اب سوال یہ ہے کہ کیا پاراچنار میں غمزدہ عوام کو گولیاں نشانہ بنانے والی فوج اب فضل سعید کے ٹھکانے کی۔
ایرانی صدر پاکستان میں
پاراچنار میں امن و امان کو ایک بار پھر ایک لمبے عرصے کے لئے نیست و نابود کیا گیا ہے اور یہ ایسے حال میں ہوا ہے کہ ایران اور پاکستان کے صدور پاکستان میں ہیں اور ان کی موجودگی کا مقصد "دہشت گردی کے خلاف علاقائی طور پر جدوجہد" بتایا گیا ہے۔ مثلاً صدر پاکستان نے کہا ہے کہ "اس کے بعد پاکستان، ایران اور افغانستان مل کر دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑیں گے"، اور اسی حال میں پاراچنار میں شیعیان آل محمد (ص) کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اس حادثے کو مقامی آبادی نے ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے لکتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے صدر پاکستان کچھ زیادہ ہی بولے ہیں یا پھر وہ بھی شیعہ باشندوں کے قتل عام کو دہشت گردی کا مصداق قرار نہیں دے رہے ہیں؛ اب تک کے واقعات سے تو یہی کچھ ظاہر ہوا ہے اور پھر صدر پاکستان کا دورہ بحرین اور کرائے کے ایجنٹ بحرین بھجوانے کے معاہدے اور ۔۔۔ ۔ بہر صورت ہوسکتا ہے کہ پاراچنار میں ہونے والا حملہ اسلام آباد میں دہشت گردی کے خلاف ہونے والی سربراہی کانفرنس کے شرکاء کے لئے ایک پیغام کی حیثیت رکھتا ہو اور اس کا مفہوم یہ ہو کہ جب تک ادھر ادھر سے وابستہ ٹولے اور بعض اندرونی لابیوں کی مرضی نہ ہو اور ان سب کے بیرونی آقاؤں کی مرضی نہ ہو اسلام آباد کی سربراہی کانفرنس کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کرسکے گی۔
ایک عجیب اطلاع
ایک اطلاع کے مطابق کل صبح سے پاراچنار کے شہر میں سرکاری افواج کی غیرمعمولی نقل و حرکت دکھائی دے رہی تھی جس سے معلوم ہورہا تھا کہ گویا شہر میں کچھ ہونے والا ہے اور فوج کی غیرمعمولی نقل و حرکت بجائے خود اس بات کی دلیل سمجھی جارہی ہے کہ دھماکہ سرکاری فورسز نے کرایا ہے۔ دریں اثناء فوج نے دھماکے کے فورا بعد کرفیو کا اعلان کیا اور کئی زخمی سڑکوں پر رہ گئے تھے لیکن جب عوام نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور زخمیوں کو اٹھا کر اسپتال روانہ کیا گیا تو فوج نے فاروقیہ ہوٹل میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو بچانے کے لئے عوام پر فائرنگ کردی جس سے آٹھ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے اور یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس حملے سے حکومت بے خبر نہيں تھی۔
عوام کا غم و غصہ دوہرے ستم کا نتیجہ
ادھر مقامی آبادی میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور شدید رد عمل کا خدشہ پایا جاتا ہے کیونکہ حکومت دہشت گرد لائی اور جب دہشت گردوں نے حملہ کیا تو حکومت نے مقتولوں کے خاندانوں اور مقامی آبادی کو تسلی دینے کی بجائے ان پر فائرنگ کردی۔
ادھر ایجنسیوں کے اندر بعض مخصوص حلقے عرصہ دراز سے علاقے میں جنگ شروع کرانے کی کوشش کررہے ہیں:
- پاکستانی فوج دہشتگردوں کو شیعیان پاراچنار سے لڑانا چاہتی ہے
امن قائم کرنے والوں کی درندگی کی بدترین مثال؛ بم دھماکے کے کے بعد احتجاجی مظاہرین پر پاک آرمی کی براہ راست فائرنگ سے پانچ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔شیعیان پاراچنار پر دہشت گردانہ حملے اور بم دھماکے میں درجنوں افراد کی شہادت اور زخمی ہونے کے بعد عوام نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس پر ان فوجیوں نے فائرنگ کردی جو شہر سے باہر غیرمقامی دہشت گردوں کی نگرانی پر مامور ہیں اور بم ان ہی کے سامنے سے گذار کر شہر میں لایا گیا تھا اور ان فورسز نے غمزدہ عوام کو سہارا دینے کی بجائے ان کو گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نیجے میں اب تک 8 افراد کی شہادت کی اطلاعات ہیں جبکہ ادھر بم دھماکے میں شہید ہونے والوں کی تعداد بھی 26 ہوگئی ہے۔بالفاظ دیگر بم دھماکے میں 26 افراد شہید ہوگئے تھے اور افواج پاکستان!!! کی فائرنگ میں شہیدوں کی تعداد 8 ہوگئی ہے دھماکے اور فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں میں کئی لوگوں کی حالت نازک ہے چنانچہ شہیدوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نہ چاہتی تو دھماکا نہ ہوتا اور اس کا ثبوت یہ ہے سرکاری فورسز نے دہشت گردوں کی رہی سہی کسر پوری کرتے ہوئے اپنے عزیزوں کے قتل پر احتجاج کرنے والے عوام کو نشانہ بنایا ہے چنانچہ شیعیت نیوز کی رپورٹ کے مطابق مقامی عمائدین اور سیاسی و سماجی حلقوں نے آج کے دونوں واقعات کو ریاستی دہشتگردی کا شاخسانہ قرار دیا ہے اور اس کا زیادہ اہم ثبوت وہی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا کہ یہاں امن تھا اور حکومت اور فوج نے امن کو تباہ کردیا۔ سب کو معلوم تھا کہ پر امن علاقے میں امن قائم کرنے اور شہر کے گرد ناکے لگانے کا مطلب کیا ہوسکتا ہے؟ معلوم تھا کہ سرکار کو طالبان کا امن درکار ہے ورنہ یہاں پہلے سے امن قائم تھا اور طالبان نے بھی سرکاری یا امریکی منظرنامے کے تحت اپنے فرائض بخوبی انجام دیئے ہیں اور ہاں! یہ الگ سی بات ہے کہ اس کا فائدہ کس کو پہنچے گا؟ اگر کہا جائے کہ اس کا فائدہ حکومت پاکستان کو پہنچ رہا ہے تو فائدے کا مفہوم نامعلوم ہے جیسا کہ سرکار پاکستان کی لغت میں امن کا مفہوم نا معلوم ہے اور اگر اس کا فائدہ نیٹو اور امریکہ کو ملا ہے تو یہ پاکستان کے سیکورٹی اداروں کی آفت پذیری کی موٹی علامت ہے جس میں پوری دنیا کی شریر قوتوں سے وابستہ طالبان موجود ہیں ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب ملنے کی بھی کسی کو کوئی توقع نہیں ہے؟ ملک کا تحفظ اپنوں کی خونریزی سے کب تک ممکن ہے؟ اس کا جواب بھی شاید کرتے دھرتوں کو بھی معلوم نہیں ہے۔مقامی لوگ کہتے ہیں کہ بم دھماکہ سرکاری سرپرستی میں فاروقیہ ہوٹل میں آبسنے والے دہشت گردوں نے فاصلاتی کنٹرول کے ذریعے کرایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ابھی چار مہینوں سے زیادہ عرصے سے ـ حکومت کے بقول مقامی سنی برادری کے چند خاندانوں کو اور مقامی لوگوں کے بقول بغیر بیوی بچوں کے دہشت گردوں کو ـ پاراچنار لایا گیا ہے تو ان لوگوں کو اتنا عرصہ گذرنے کے باوجود ہوٹلوں اور سرکاری ریسٹ ہاؤسوں میں کیوں رکھا گیا ہے؟اگر وہ واقعی مقامی سنی ہیں تو انہيں اپنے گھروں میں رہنے کی اجازت نہیں دی گئی؟ اور یہ کہ اگر وہ واقعی مقامی لوگ ہیں تو ان کے خاندان کہاں ہیں؟
شہداء کی تعداد 34 ہوگئی
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سرکاری فورسز کی فائرنگ میں شہید ہونے والوں کی تعداد آٹھ اور بم دھماکے کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 26 اور یوں شہیدوں کی مجموعی تعداد 34 ہوگئی ہے۔ شہیدوں کے موصول ہونے والے 20 نام:
- شہید جوہر علی ولد صفت علی- شہید قیصر حسین ولد عبداللہ- شہید علی رضا ولد قنبر- شہید یعقوب علی ولد غلام علی- شہید مرتضی علی ولد بریر حسین- شہید شوکت حسین ولد اکبر- شہید مظاہر حسین ولد اکبر حسین- شہید صابر حسین ولد نبی زیرن- شہید جان آقا ولد نور حسین- شہید شجاعت حسین ولد حسین غلام- شہید ہدایت حسین محب علی- شہید اشتیاق حسین ولد اکبر- شہید حبیب حسین ولد عمران علی- شہید جمیل حسین ولد علی زمان- شہید اصغر علی ولد دفتر علی- شہید عرفان علی ولد سلطان علی- شہید غلام حسن ولد میر حسن- شہید حیدر عباس ولد میر حسن- شہید بہار حسین ولد اقبال- راشد حسین ولد لیاقت حسین
ادھر ایک رپورٹ کے مطابق پشاور جانے والی شیعیان پاراچنار کی دو گاڑیاں ابھی تک شام تک پاراچنار نہیں پہنچی تھیں اور یہ بات گاڑیوں میں سوار مسافروں کے اہل خانہ کی فکرمندی کا سبب بن گئی ہے۔
چھوٹے معاہدہ امن کے بارے میں ابنا کے ذرائع نے متعدد بار خدشات ظاہر کئے تھے؛ لنکس دیکھنا نہ بھولئے گا:
- پاراچنار - ایک بار پھر؛ "اہل تشیع اور اہل سنت کے مابین قیام امن کا معاہدہ"، / خدشات
- پاراچنار: ناقص امن ڈیل؛ معاہدہ صرف پاراچنار سٹی میں نافذالعمل ہوگا!!!
پاراچنار کو گذشتہ پانچ سال کے دوران مکمل محاصرے کے باوجود اندرونی طور پر امن کے حوالے سے مثالی شہر تھا اور عینی شاہدین کہا کرتے تھے کہ اسلام آباد میں انسان کو خطرہ محسوس ہوتا ہے لیکن پاراچنار امن کا گہوارہ ہے چنانچہ یہ خدشہ پہلے دن سے موجود تھا کہ جو لوگ پاراچنار میں لائے جارہے ہیں ان کا اوڑھنا بچھونا ہی دہشت گردی اور خونخواری ہے اور حکومت ـ جس نے پاراچنار کی طرف جانے والے راستوں پر امن کے قیام کے لئے کوئی اقدام ن